Saturday, August 11, 2012

نانی کا آنگن - Grandma's Backyard



English Translation:

Grandma's Backyard


Grandma's backyard and making rhyme;
How can I forget my past time

That "hand fan" was something different
That was a great peace, a playful time
Grandma's cause to sleep me by shake that fan
How can I forget my past time

That springtime weather, a happiness season
Catching the frog, walking in the mud
That boat run into the rainwater
How can I forget my past time

That plan to put pillows at the pillow,
It had really a strange childhood play
Climb up on pillows and leaps out
How can I forget my past time

I often makes the ladder of that pillows,
I used to troubled my grandma,
Simply steal butter from the pot of soil,
How can I forget my past time

That cooking on the mud stove
Grandma's offer rice khichdi with butter;
Feed me with her beautiful hands,
How can I forget my past time

That scent of the soil, that charm of the farms
Appearance of the siren as mustard flowers
Just get immersed in the joy of heaven;
How can I forget my past time

Grandma's backyard and making rhyme;
How can I forget my past time

- Shahnawaz Siddiqui


Please click on the following link for Hindi version:

http://www.premras.com/2010/05/blog-post_2515.html

Saturday, August 21, 2010

غزل : جب ہم ان سے جدا ہو رہے تھے



جب ہم ان سے جدا ہو رہے تھے

سچ پوچھو تو فنا ہو رہے تھے

خوشیوں کی باتیں تو کیا کیجئےگا

آنسو بھی ہم سے جدا ہو رہے تھے

لہو کے جو قطرے بچے تھے بدن میں

ووہ جوشے-جگر سے رواں ہو رہے تھے

کہاں مل پاۓ ہے عاشق جہاں میں

یہ جملے زبانی بیان ہو رہے تھے

نئی ووہ کہانی شروع کر رہے تھے

ہم گزرا ہوا فلسفہ ہو رہے تھے

جو مشہور تھے 'بیوفا' اس جہاں میں

واہی آج پھر بیوفا ہو رہے تھے.
  

- شاہنواز صدیقی


हिंदी में पढ़ने के लिए यहाँ क्लिक करें
ग़ज़ल: जब हम उनसे जुदा हो रहे थे

Thursday, August 19, 2010

مٹھی بولی کی اہمیت

خیالتوں میں چاہے کشمکش ہو ، اکیدت میں چاہے اختلافات ہو لیکن انسان کو ایسی بولی بولنی چاہئے کہ بات کی اہمیت کا پتہ چل سکے

وانی ایسی بولئیے، من کا آپا کھوی.
اورن کو شیٹل کرے، آپہو شیتل ہوی.

کسی نے صحیح کہا ہے کہ اپنے اندر کے "میں" کو چھوڑ کر مٹھاس کے ساتھ اچھی باتیں بولیں جائیں تو زندگی کی سچی خوشی ملتی ہے. کبھی گرر میں ، تو کبھی غصے میں کدوی بولی بول کر ہم اپنی بولی کو تو زہریلا کرتے ہی ہیں ، سامنے والے کو پریشانی پہوبچہکر اپنے لئے گناہ ہی بٹورتے ہیں ، جو کہ ہمیں کمزور بناتے ہیں.

کسی بھی کہتے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے انسان کے شکشیات ہی ییصلاکن ہوتی ہے اور شکشیات کی ترقی کے لئے زبان کی بہت اہمیت ہوتی ہے ، لیکن اس کے ساتھ - ساتھ بولی کی مٹھاس بھی اتنی ہی ضروری ہے. بڑو سے ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ وہ بولچہل ہی ہیں جس سے انسان کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے. خدا نے ہمیں زمین پر محبت اور خلوس پھیلانے کے لئے بھیجا ہے ، اور یہی ہر مذہب کا پیغام ہیں. محبت کی تو عجیب ہی کہانی ہے ، یہ ہمیشہ بانٹنے سے بڑھتی ہے اور اس سے خود خدا بھی خوش ہوتا ہے. قرآن کے مطابق جب اللہ کسی سے خوش ہوتا ہے تو اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں. تو تم بھی اس سے محبت کروں اور پورے عالم میں یہ خبر پھیلا دو جس تک بھی یہ خبر پہنچ گئے وہ سب بھی اس شخص سے محبت کرے اور اس طرح یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے.

لیکن کچھ لوگ اپنے گرور میں پھنس کر اپنی بولی کا غلط استعمال کرتے ہیں ، جس سے جگڑو کی شروعات ہوتی ہے. اگر آپ آئے دن ہونے والے جگڑو کے بارے میں غور کریں تو پاتا لگے گا کہ چھوٹی - چھوٹی باتوں پر بڑے - بڑے جھگڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی اصل جڑ ہوتی ہے کدوی بولی. اس لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ اگر آپ کو اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے تو کدوی بولی کو چھوڑ کر میٹھی بولی کو اپنانا چاہئے. جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ مٹھاس کے ساتھ اچھی باتیں بولی جائیں تو بات کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے ، ورنہ بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے.

لیکن میٹھی بولی بولنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دل میں کہنہ رکھتے ہوئے میٹھی بولی کا استعمال کیا جائے. زندگی کا مقصد تو دل کی کدواحت / کہنہ کو دور کرکے اپنے اوپر قابو پانا ہونا چاہئے.

شاہنواز صدیقی



हिंदी में पढ़ने के लिए यहाँ क्लिक करें

मधुर वाणी का महत्त्व